نواز شریف کا بیانیہ اسٹیلبشمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ‘حدود سے تجاوز کرنے’ کے خلاف ہے: مریم نواز

maryam nawaz, maryam nawaz sharif,
گرفتاری شہباز شریف کی نہیں جنرل عاصم سلیم باجوہ کی ہونی چاہیے تھی: مریم نواز
September 28, 2020
Show all

نواز شریف کا بیانیہ اسٹیلبشمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ‘حدود سے تجاوز کرنے’ کے خلاف ہے: مریم نواز

Maryam nawaz, interview,

صحافی عاصمہ شیرازی کے ساتھ آج ٹی وی پر نشر ہونے والے اس انٹرویو میں مریم کا کہنا تھا کہ ‘میں خوف میں تھی، ہمارا مقابلہ کم ظرف لوگوں سے ہے۔’

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں خاموش کرنے والے ‘اب خاموش خود ہوں گے۔’

مریم نواز نے کہا کہ انھیں یہ بھی یقین ہے کہ ‘نہ یہ آئینی حکومت ہے اور نہ یہ منتخب حکومت ہے۔’

یہ حکومت حکومت کہلانے کی اہل نہیں ہے۔ اس کو حکومت کہنا، اس کو منتخب حکومت کہنا، منتخب ہونے کی توہین ہے، عوامی نمائندوں کی توہین ہے۔ میں نے اس کو کبھی حکومت نہ سمجھا، نہ عمران خان کو وزیرِ اعظم کہا، نہ دل سے سمجھا۔

مریم نواز سے جب پوچھا گیا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کو ‘کہیں سے’ آشیرباد ہے، تو اس پر مریم نواز نے جوابی سوال پوچھا کہ ‘اگر مسلم لیگ (ن) کو کہیں سے آشیرباد ہوتی تو کیا وہ اس طرح جدوجہد میں اتر جاتی؟

مریم نواز سے جب پوچھا گیا کہ مسلم لیگ (ن) جب بالکل تصادم کی راہ پر ہے اور اس کا بیانیہ حکومت مخالف کے بجائے اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے تو پارٹی کی بقا کیسے رہے گی، تو اس پر مریم نواز نے کہا کہ یہ بیانیہ اسٹیلبشمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ‘حدود سے تجاوز کرنے’ کے خلاف ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میاں نواز شریف کا مؤقف یہ ہے کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے جو آئین میں متعین ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے والد اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے سوالوں کا جواب یہ نہیں کہ انھیں غدار قرار دیا جائے۔

مریم نے کہا کہ (غداری کا پرچہ درج کروانے والا) خود ایک تحریکِ انصاف کا کارکن ہے اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے

Leave a Reply